ولی اللہ معروف بھائی اللہ آپکی آنی والی تمام نسلوں کی
حفاظت فرمائے آمین آپ کمال کام کرتے ہیں یار
آپکی تحریریں پڑھ کر دل خوشی کے آنسو روتا ہے قسم سے
کہ کوئی تو ہے اس ملک میں جو پچھڑوں کا سہارا بنتا ہے
Waliullah Maroof
----------------------------------------------------
الحمدللہ آج نجلہ اپنے خاندان کو مل گئی
سال 2008 کے جون 26 جون میں نجلہ کورنگی سے اپنی والدہ کے ساتھ چچا کے ہاں نیو کراچی آئی تھی۔ چار سال عمر تھی۔ضد کرکے پیسے لئے باہر چیز لینے نکلی۔
چیز لیکر جب واپس گھر آنے لگی تو سارے دروازے ایک رنگ کے لگے تو سمجھ نہیں آیا چچا کا گھر کونسا تھا۔ جاتی رہی جاتی رہی کھو گئی۔
شادمان کی یوسی میں کسی نے لاکر دیا کہ یہ بچی لاوارث ملی ہے۔ ایک ہفتے تک یوسی نے کوشش کی فیملی نہیں ملی۔
یوسی نے کسی کے پاس امانت رکھوایا۔
نجلہ کو ایک بےاولاد جوڑنے اپنے پاس رکھا۔ایک سال تک نجلہ روتی رہی امی ابو اور بھائیوں کو یاد کرتی۔
پھر آہستہ آہستہ بھول کر نارمل ہوگئی۔
جس فیملی نے رکھا تھا انہوں نے انٹر تک پڑھایا وہ اسے ڈاکٹر بنانا چاہتے تھے لیکن نجلہ نے دینی تعلیم کی طرف آنے کا از خود فیصلہ کیا۔ عالمہ بنی ۔عربی کے کورسز اور مختلف تعلیمی سرگرمیوں میں مصروف رہی۔
اس جوڑے نے آج تک نجلہ کو یہ احساس ہونے نہیں دیا کہ وہ کسی اور کی بیٹی ہو۔ بلکہ نجلہ کی پرورش کرنے والے جوڑے کے خاندان تک کو کل ہماری ویڈیو سوشل میڈیا پر دیکھ کر معلوم ہوا کہ یہ انکی سگی بیٹی نہیں ہے۔ پڑوسیوں تک کو آج پتہ چلا۔ خیر نجلہ کو اپنوں کی جدائی چین سے رہنے نہیں دے رہی تھی۔وہ ہر طرح سے خوشحال تھی لیکن سال 2024 میں انکو ذہنی مسئلہ شروع ہوا۔پریشان ہونے لگی۔ڈراونے خواب دیکھتی۔اچانک نیند میں اٹھ جاتی۔خواب میں اپنے گمشدگی والا دن آتا تھا۔
وہ ایک ماہر نفسیات ڈاکٹر کے پاس گئی۔ ڈاکٹر صاحب نے نجلہ سے دل کی بات پوچھی کہ سچ سچ بتاو کیا پریشانی ہے؟ نجلہ نے اپنی ساری داستان سنائی کہ یہ یہ ماجرا ہے۔
ڈاکٹر صاحب نے پرچی پر میڈیسن کے بجائے "ولی اللہ معروف کا پیج " لکھا کہ آپ ان سے رابطہ کریں۔
نجلہ سمجھی ولی اللہ شاید کسی بزرگ کا ذکر ہوگا شاید ڈاکٹر نے اس بزرگ کے مزار پر حاضری کا کہا ہو۔ خیر ڈاکٹر صاحب نے سمجھا دیا کہ ایسے ایسے ایسے لوگ ملاتے ہیں۔
وہ گھر آئی دو ماہ تک ہمارے کام کو سوشل میڈیا پر فالو کیا پھر جب تسلی ہوئی کہ ہاں رابطہ کرلینا چاہئے۔فروری دوہزار پچیس کو رابطہ کیا۔ ہم نے پوسٹ لکھی۔ کافی سارے ڈی این اے ٹیسٹ ہوئے۔ کوئی میچ نہیں ہوا۔ پھر 30 جون 2026 کو ہم نے دوبارہ پوسٹ لگائی۔خاندان مل گیا۔ ڈی این اے میچ ہوا۔
دوسری طرف!
خاندان پر جو گزری وہ اللہ کسی کو نا دکھائے ۔ دل تھام کے رکھیں۔
نجلہ پاکستانی بنگالی خاندان سے تعلق رکھتی ہے۔ بہت ہنستا کھلتا خوشحال گھرانا تھا۔سب سے چھوٹی اور بہت لاڈلی بچی تھی۔
جس چچا کے ہاں سے گم ہوئی تو سب نے الزام لگایا کہ اسکو چچا نے بیچ دیا ہے۔جوان چچا اس الزام کا صدمہ برداشت نا کرسکا چھ ماہ بعد وفات پاگیا۔نجلہ کے والدین الگ ہوگئے۔
ماں بیٹیاں الگ ہوگئیں۔ بھائی اور والد الگ ہوگئے۔
بہنوں کے رشتے ہونے میں مشکلات تھیں ۔ یہ داغ لگ گیا تھا کہ انکے ابو نے بیٹی بیچی ہے۔سب دربدر تھے۔
کل جب نجلہ کی رپورٹ آئی سب کی آنکھیں کھل گئیں۔ اللہ نے باطل کو ختم کیا اور حق کو واضح کردیا۔
اللہ نے بدگمانی کو قرآن میں گناہ قرار دیا ہے۔ اس گناہ نے گئی خاندان تباہ کردیئے۔
الحمدللہ گزشتہ کل ہم نے جاکر نجلہ کے سارے خاندان کو کورنگی میں اکھٹا کیا۔ 17 سال بعد ماں اور بیٹوں کو ملایا۔ بیٹے ماں کے پاؤں میں پڑے سب نے ایک دوسرے سے معافی مانگی۔ بہن بھائیوں کو ملایا۔ بکھرا ہوا گھر پھر سے اکھٹا کیا۔
اور آج الحمدللہ وہ سب ایک بس میں نجلہ کے گھر آئے اور نجلہ سے ملاقات ہوئی۔
کیسی ملاقات تھی۔کیا کیا ہوا؟ یہ سب الفاظ میں ہم نہیں بتاسکیں گے۔ بس آپ کل ان شاءاللہ ویڈیو دیکھ کر محسوس کرسکیں گے کہ یہ کس قدر خطرناک کیس تھا۔ اور اللہ نے پھر سے سب کو سرخ رو کیا۔
#waliullahmaroof
No comments:
Post a Comment